پاکستان میں خطرناک ملزم اکثر مقابلے میں کیوں مارے جاتے ہیں؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ریپ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث خطرناک ملزمان اکثر عدالتی کاروائی شروع ہونے یا اس کے بعد پراسرار حالات میں مارے جاتے ہیں۔اکثر ایسی خبر پڑھنے اور سننے کو ملتی ہے کہ ملزم دُھند اور تاریکی کا فائدہ اٹھا کر کانسٹیبل کو دھکا دے کر گاڑی سے چھلانگ مار کر اُترا اور ہتھکڑی سمیت فرار ہو گیا۔پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور پھر فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ بعد ازاں فائرنگ کے مقام سے ایک شخص شدید زخمی حالت میں ملا جس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔مرنے والے کی شناخت فلاں کیس کے مرکزی ملزم کی حیثیت سے ہوئی ہے۔‘

ایسے واقعات کے بعد پولیس کی جانب سے عموماً یہ روایتی بیان جاری کیا جاتا ہے جس میں دعویٰ ہوتا ہے کہ ملزم کو برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب ’ملزمان کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا اور اس دوران ہونے والی فائرنگ سے ملزم ہلاک ہو گیا۔‘عموماً اس طرح کے واقعات میں ایف آئی آر میں مقام،تاریخ اور ملزم کا نام بدلنے کہ علاوہ باقی عبارت لگ بھگ ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں ایف نائن پارک میں خواتین کے ساتھ مبینہ ریپ کے ملزمان ہوں یا پھر اسلام آباد کے بینکوں میں ڈکیتی کرنے والا ملزم، یہ صرف چند ایسے حالیہ واقعات ہیں جن میں پولیس کے مطابق ان کے پاس ’ناقابل تردید شواہد‘ بھی موجود ہوتے ہیں تاہم پراسرار حالات میں زیر حراست ملزم ہلاک ہو جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف صوبہ پنجاب میں 2019 سے لے کر 2024 کے درمیان پولیس مقابلوں میں کم از کم 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت ان افراد کی تھی جو سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ان مقابلوں میں ہلاکتوں کے علاوہ بہت سے افراد زخمی بھی ہوئے۔ صوبہ سندھ میں اسی عرصے کے دوران پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔

پنجاب میں پولیس مقابلوں کی روایت پرانی ہے اور بہت سے پولیس افسر ماضی میں ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے نام سے مشہور بھی رہے ہیں جن میں انسپیکڑ عابد باکسر بھی شامل ہیں۔ 17 جولائی 2020 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عابد باکسر لاہور پولیس کے ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ سکواڈ‘ کے نام سے مشہور گروپ میں شامل تھے جس میں اس وقت کے ڈی ایس پی عاشق مارتھ، ڈی ایس پی رانا فاروق، ڈی ایس پی طارق کمبوہ، انسپیکٹر سعید نوید اور انسپیکٹر عمر ورک بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پولیس افسران اور اہلکار 1999 تک بہت سے ایسے پولیس مقابلوں میں شامل رہے جن میں جرائم پیشہ عناصر کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق صرف شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے پہلے دور یعنی 1997-99 کے دوران ایک ہزار کے قریب جرائم پیشہ افراد ایسے پولیس مقابلوں میں مارے گئے جن کے حقیقی ہونے پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لاہور میں کئی بڑے جرائم پیشہ گروپ سرگرم تھے۔

سنہ 1993 سے 1996 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہنے والے میاں منظور وٹو نے صحافی شاہد اسلم کو بتایا تھا کہ اپنے دورِ اقتدار میں ’غنڈہ عناصر سے نمٹنے کے لیے میں نے پولیس کو زیادہ اختیارات دیے جس کے بعد جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا۔‘ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حالیہ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی پراسرار ہلاکت کی وجوہات کیا ہے اور اس رجحان کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں؟

یہ جاننے کے لیے پاشا کی بھاشا ڈاٹ کام نے متعدد پولیس افسران سے بات چیت کی جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس مقابلے کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے اور ٹھوس شواہد کے باوجود ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟ پنجاب پولیس کے ایک سابق اہلکار نے بتایا کہ عمومی طور پر ایسے سنگین واقعات جیسا کہ کمسن بچوں یا خواتین کے ساتھ ریپ، جس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی آوازیں اٹھ رہی ہوں، ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر اس نوعیت کا ٹاسک کسی پی ایس پی افسر کو نہیں بلکہ رینکر پولیس افسر کو سونپا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پی ایس پی ان افسران کو کہا جاتا ہے جو سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد براہ راست اے ایس پی کے عہدے پر تعینات ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ ہو جاتا ہے اور مبینہ پولیس مقابلے کی ٹھان لی جاتی ہے تو پھر کسی اور معاملے کو نہیں دیکھا جاتا چاہے وہ ملزمان کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہی موجودگی ہی کیوں نہ ہو۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جتنے کیسز کے بارے میں وہ جانتے ہیں ان میں ڈی ایس پی رینک کے افسر کو مبینہ پولیس مقابلے کا ٹاسک دیا جاتا ہے جبکہ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او جہاں پر یہ مقدمہ درج ہوتا ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی کو اعتماد میں لے کر منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس حوالے سے متعلقہ اعلیٰ پولیس افسران بھی ’آن بورڈ‘ ہوتے ہیں۔ سابق پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ وہ سروس کے دوران خود بھی متعدد پولیس مقابلوں میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر ان کے سامنے ہونے والے پولیس مقابلوں کے لیے زیادہ تر رات کی تاریکی یا پھر علی الصبح کا چناؤ کیا گیا اور یہ ایسے علاقوں میں ہوئے جہاں عوام کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان کی سروس کے دوران جتنے بھی پولیس مقابلے ہوئے، ان میں سے کسی ایک مقدمے کا بھی کوئی ایسا گواہ سامنے نہیں آیا جس نے یہ واقعات رونما ہوتے ہوئے دیکھے ہوں۔ ایک اور سابق پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا ایسے مبینہ پولیس مقابلے میں جن میں ایک یا دو افراد کو ’ٹھکانے‘ لگانا ہو تو اس میں سرکاری اسلحہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ پرائیویٹ اسلحے کے ساتھ یہ کام کیا جاتا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر زیر حراست ملزمان کا عبوری چالان کسی عدالت میں پیش نہ ہونے سے قبل ہی یہ کام کر لیا جاتا ہے۔

ایک اور سابق پولیس اہلکار کے مطابق جب کسی کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہوتی تھی تو ’کوڈ ورڈ‘ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں پولیس اہلکار آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ ’آج رات کو مٹن کڑاہی کھانی ہے اور پھر اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ مٹن نہیں تو پھر چکن سے ہی گزارا کرو۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مٹن کڑاہی‘ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پولیس مقابلے میں ’ملزم کا پتا صاف کرنا ہے‘ جبکہ ’چکن کڑاہی‘ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ملزم کو جان سے نہیں مارنا بلکہ اس کے جسم کے ایسے حصے کو ٹارگٹ کرنا ہے جس سے وہ تمام عمر کے لیے معذور ہو جائے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کی منصوبہ بندی کے لیے ’ہاف فرائی اور فل فرائی‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے تھے۔ فل فرائی کا مطلب ملزم کا خاتمہ جبکہ ہاف فرائی کا مطلب ملزم کو زخمی کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں