پاکستانی حالات اور نوجوان

گزشتہ روز انگلینڈ کے مصروف ترین ہیھترو ایئرپورٹ پر اپنے اوکاڑا کے کلاس فیلو دوست کے چھوٹے بھائی کو ریسیو کرنے گیا۔ میرے دوست کے چھوٹے بھائی کا نام اسد رحمان ہے۔ اسد رحمان سٹوڈنٹ ویزا پر یہاں پہنچے۔ ان کا ماسٹرز پروگرام میں داخلہ ہوا ہے۔

اسد رحمان کے چہرے پر یوکے پہنچنے پر خوشی کے تاثرات نمایاں تھے، لیکن اتنا لمبا سفر طے کرتے ہوئے تھوڑا تھکے ہوئے بھی لگ رہے تھے۔ ان کو اپنے گھر لے آیا۔ خاطر تواضع کی اور سُلا دیا۔ صبح میں اسد رحمان سے پہلے اُٹھ گیا، بہترین سا ناشتہ تیار کیا۔ ایک ساتھ ناشتہ کیا اور ساتھ ہی گفتگو کا سیشن بھی شروع ہوا، چونکہ اسد رحمان سے میری پہلی ملاقات تھی۔

میں نے ان سے تعلیمی بیک گراؤنڈ اور یو کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ خوش گپیاں ہوئی۔ جگت بازی کی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر خوب انجوائے کیا، لیکن کچھ سوالات کے جوابات پر میں ششدہ اور حیران تھا۔ وہ یہ کہ جب میں نے پوچھا کہ اسٹڈی ویزا کے لیے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کیسے کیا۔؟ یہ سنتے ہی اس کے چہرے پر کچھ افسردہ نما تاثرات دکھائی دینے لگے۔

اس نے بتایا کہ اس نے اپنے والدین کی ساری عمر کی جمع پونجی سے بنایا ہوا گھر بیچ دیا ہے، اس کے علاوہ اپنی والدہ اور بہنوں کا زیور بھی نہیں چھوڑا۔ مطلب ساری کشتیاں جلا کر یہاں پہنچا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا آپ واقعی حصول تعلیم کے لیے آئے ہیں۔؟ اس نے کچھ غصے اور عجیب سے انداز میں کہا کہ نہیں! حالات سے تنگ ہو کر یہاں آیا ہوں۔ پاکستان میں ماسٹرز کرنے کے باوجود کوئی جاب نہیں مل رہی تھی۔ مارا مارا پھر رہا تھا۔ ویسے ہمارے درمیان بہت لمبی چوڑی گفتگو ہوئی۔

اگر میں ایک ایک لفظ بیان کروں تو بات بہت آگے نکل جائے گی۔ بس مختصر لکھ کر مقصد آپ کو بتانا تھا کہ آخر پاکستان میں ان حالات کا ذمہ دار کون ہے۔؟ یہ صرف اسد رحمان کی کہانی نہیں، بلکہ %90 بیرونِ ممالک جانے والوں کی مشترکہ سٹوری ہے۔ آج ہر متوسط طبقے کے نوجوانوں کی اکثریت اپنے والدین کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنی بچائی رقوم یا دیگر اثاثہ جات کو ہر صورت بروئے کار لاتے ہوئے انھیں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھجوائیں۔ محض تعلیم کا حصول ہی ان کی خواہش ہوتی تو والدین اس قدر پریشان نہ ہوتے۔

یہ سوچ کر مگر دہل جاتے ہیں کہ بیرون ملک جانے کو بضد نوجوان پاکستان کی مٹی ایک بار پھر چھوڑ کر یہاں واپس آنا نہیں چاہ رہے۔ والدین تو لاشعوری طور پر ان بچوں کو اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر پال رہے ہوتے ہیں، لیکن سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے پیدا کیے ہوئے حالات نے والدین سے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا ہے۔ جو نوجوان ہنسی خوشی روزگار کے لیے یا تعلیم کے لیے بیرون ممالک جاتے ہیں۔ اگر میں اسپیشلی یو کے کی بات کروں تو یہاں پر بھی چونکا دینے والے حالات ہیں۔

اعلی تعلیم یافتہ اور اچھے گھروں سے ہوتے ہوئے بھی یہاں چھوٹی چھوٹی جابز کرنی پڑتی ہیں، لیکن اس کے باوجود واپس جانے کو کوئی تیار نہیں۔ میں بھی تحقیق کا عادی ہوں، چونکہ میں ایک صحافی ہوں، اس لیے باہر نکلتے ہوئے لوگوں سے ملتے جلتے پوچھتا رہتا ہوں۔ حال ہی میں لندن میں ویٹری کی جاب کرنے والے کچھ نوجوانوں سے بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ آئے تھے۔ جس ڈگری کی طلب تھی وہ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان لوٹنا نہیں چاہ رہے۔ کسی نہ کسی بہانے برطانیہ میں اپنے قیام کو طول دینے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ اختیار کرنے کو تیار ہیں۔

ہمارے حکمران اور پالیسی ساز سنجیدگی سے سوچیں کہ ہمارے نوجوان امید کیوں کھو چکے ہیں۔؟ وطن عزیز کو نسبتاً خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے بہانے چھوڑنے کے بعد یہاں لوٹنے کو آمادہ کیوں نہیں ہیں۔؟ جو سوال میں اٹھا رہا ہوں وہ اس شدت سے ریگولر اور سوشل میڈیا میں زیر بحث نہیں آرہا جس کی مجھے توقع تھی۔ پاکستانیوں کی بیرون ملک نقل مکانی کا رحجان کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں آباد متوسط طبقے نے اس کو فکر مندی سے نہیں لیا، کیونکہ قیام پاکستان کے بعد برطانوی معیشت کی بحالی کے لیے انگلینڈ جانے والوں کی اکثریت مزدور طبقات پر مشتمل تھی۔

یہی عالم 1970ء کی دہائی میں روزگار کے لیے مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ملک جانے والوں کے حوالے سے رہا۔ 1990ء کی دہائی کے وسط سے متوسط طبقے کی کثیر تعداد امریکا اور کینیڈا کا رخ کرنے لگی۔ پاکستانی ڈاکٹروں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی امریکا آباد ہو چکی تھی۔ جو رحجان مگر اب شروع ہوا ہے وہ ہر حوالے سے ’برین ڈرین‘ ہے۔ مختلف النوع صلاحیتوں سے مالا مال نوجوان اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان میں امکانات ڈھونڈ ہی نہیں پا رہے۔

پاکستان کو اس نہج پر لانے والے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ مسلسل اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ سوچنا بھی انتہائی خود غرضی ہے کہ بیرون ملک سیٹل ہوجانے کے بعد نوجوان پاکستان میں آباد رشتے داروں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان کی بھیجی رقوم پاکستانی معیشت کو رواں رکھتی ہے۔ کچھ پڑھے لکھے متوسط طبقات کے نوجوان امریکا اور یورپ کے ملکوں میں سیٹل ہو جانے کے بعد اپنے والدین کو پاکستان چھوڑ کر اپنے ہاں رکھنا چاہ رہے ہیں۔ بوڑھے والدین کو مسلسل اکسایا جا رہا ہے کہ وہ آبائی گھر وغیرہ بیچ دیں اور بیرون ملک بچوں کے پاس منتقل ہوکر نواسے، نواسیوں اور پوتے، پوتیوں سے خوشگوار ماحول میں زندگی انجوائے کریں۔ بالآخر ہمیں پاکستان کو ہی آباد کرنے اور ترقی یافتہ بنانے کے لئے آگے قدم بڑھانا ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں