وزیراعلیٰ بننے کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے دوری کیوں اختیار کرلی؟

اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر متحرک رہنے والی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے روایتی میڈیا کو نظر انداز کرنا شروع کر رکھا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس نون لیگ جب اقتدار میں آتی ہے تو اس کا رویہ میڈیا کے ساتھ جابرانہ اور متکبرانہ ہو جاتا ہے۔ اسی روایت کی مریم نواز کے دور اقتدار میں بھرپور انداز میں پاسداری کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ مریم نواز نے 26 فروری کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھایا تھا لیکن اس کے بعد سے انہوں نے صرف ایک ہی پریس کانفرنس کی ہے۔ رمضان پیکج کے حوالے وہ پریس کانفرنس وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہوئی تھی جس کے بعد سے اب تک مریم نواز نے میڈیا سے کوئی ملاقات نہیں کی ہے۔پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کو بنے 6 ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا ہے تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ اپنی مصروفیات کی وجہ سے میڈیا سے نہیں مل پا رہی ہیں۔

حکومتی حلقوں کا دعوی ہے کہ مریم نواز صبح 9 بجے سے میٹنگیز کی شروعات کرتی ہیں جس کا پہلا ایجنڈا مہنگائی ہوتا ہے اور وہ اس دوران اشیا خورونوش کی قمیتوں کا جائزہ بھی لیتی ہیں۔ دوسری میٹنگ وہ سولر سٹم لگانے کے حوالے سے کرتی ہیں جبکہ تیسری میٹنگ صحت اور تعلیم پر ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب بغیر پروٹوکول کے ماڈل بازار، اسکول، اسپتال اور پولیس اسٹیشنز کے دورے بھی کرتی ہیں۔ اس دوران وقت کی کمی کی وجہ سے میڈیا کو باقاعدہ مدعو نہیں کیا جاتا۔ تاہم پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو مریم نواز کے بہت سارے ایونٹس پر دعوت دی بھی جاتی ہے جیسے جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیلڈ اسپتال کا افتتاح کیا تو وہاں بھی میڈیا کو بلایا گیا تھا اور اسی طرح ایک گورنمنٹ کالج میں ہونے والے پروگرام پر میڈیا کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے۔ اسی طرح ٹاؤن شپ ماڈل بازار کا دورہ، مریم کی دستک جیسے پروگرام میں میڈیا کو بلایا گیا لیکن یہ بات سچ ہے کہ باقاعدہ کسی موضوع پر پریس کانفرنس کے لیے ابھی میڈیا کو نہیں بلایا گیا جس کی وجہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی بے پناہ مصروفیت ہے۔تاہم مریم نواز جلد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات اور بات چیت کا ارادہ رکھتی ہیں۔

تاہم دوسری جانب مبصرین اقتدار میں آ کر میڈیا سے دوری رکھنا نون لیگ کی روش قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کو طویل عرصے سے کور کرنے والے اے آر وائی کے سینیئر رپوٹر الفت مغل کا کہنا ہے کہ جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں تھی اس وقت مریم نواز کا میڈیا سے رویہ بہتر تھا اور سیاسی اور معاشی مسائل پر پریس کانفرنسز بھی ہوا کرتی تھیں۔ اپوزیشن میں ہم مسلم لیگ ن کو بہت پیارے تھے لیکن جیسے ہی مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی اس کا میڈیا سے رویہ بہتر نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو بنے تقریباً 6 ماہ ہوچکے ہیں اور مریم نواز نے سوائے ایک پریس کانفرنس کے میڈیا نمائندوں سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیٹ رپوٹرز اس وقت ان کی آواز بنے جب عدالتوں کے باہر ن لیگ کے رہنما میڈیا ٹاک کیا کرتے تھے اور پولیس اونچی آواز میں سائرن بجاتی تھی تاکہ رپوٹرز کو لیگی رہنماؤں کی آواز نہ سمجھ آسکے اس وقت پولیس اور سیکورٹی اہلکار میڈیا اور لیگی قیادت کے درمیان حائل ہوتے تھے لیکن اب وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی ساتھی انہیں میڈیا سے بات کرنے سے روکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کا اس وقت میڈیا سے رویہ غیر مناسب ہے جبکہ دیگر جماعتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی خواہ اپوزیشن میں ہوں یا اقتدار میں ان کا رویہ میڈیا کے ساتھ بہتر رہتا ہے۔عدنان شیخ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مریم نواز متحرک ہیں لیکن مین اسٹریم میڈیا کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں