بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ڈھاکہ اور اسلام آباد کے مابین بڑھتی ہوئی فوجی اور تجارتی قربت نے مودی حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، یاد رہے کہ حسینہ واجد ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد سے انڈیا میں قیام پذیر ہیں۔
بنگلہ دیش میں گذشتہ سال جو ڈرامائی سیاسی پیش رفت ہوئی اس کے بعد بہت سی انہونیاں سامنے آئی ہیں۔ اس میں پہلے ملک کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ایک لمبی مدت کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا اور انھیں انڈیا میں پناہ لینی پڑی۔ اس کے بعد ڈھاکہ کی اپنے ایک وقت کے دشمن پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کئی دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد گذشتہ ماہ دونوں ممالک نے پہلی بار براہ راست تجارت شروع کی اور اس کے تحت ڈھاکہ نے پاکستان سے 50,000 ٹن چاول درآمد کیا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں اور فوجی رابطوں کو بھی بحال کیا گیا ہے۔ ویزا کے حصول کو آسان بنایا گیا ہے، اور سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دونوں ممالک کے درمیان انڈیا جغرافیائی طور پر حائل ہے اور کبھی ایک ہونے کے باوجود ان کے گہرے، دردناک تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ ان کے درمیان دشمنی کی ابتدا 1971 میں تب شروع ہوئی جب آج کے بنگلہ دیش اور تب کے مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی۔ انڈیا نے نو ماہ کی جنگ کے دوران بنگالی باغیوں کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔
ڈھاکہ اور اسلام آباد کے تعلقات 2001 سے 2006 کے دوران کافی خوشگوار تھے کیونکہ تب بنگلہ دیش میں وزیر اعظم خالدہ ضیا کی نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کی اتحادی حکومت تھی۔ لیکن اس رشتے میں تبدیلی 2009 سے شروع ہونے والے شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور حکومت میں آئی جس دوران انہیں انڈیا کی بھرپور حمایت حاصل رہی اور انھوں نے پاکستان سے دوری رکھی۔ لیکن جب سے شیخ حسینہ اپنی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد ڈھاکہ چھوڑ کر انڈیا بھاگنے پر مجبور ہوئيں تب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں جمی ہوئی برف پگھلتی نظر آ رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے سابق سفارت کار ہمایوں کبیر کہتے ہیں کہ گذشتہ 15 سالوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات قدرے مشکل نہج پر تھے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ جیسے دونوں ممالک کے تعلقات نارملائزیشن کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آنے سے انڈیا کی مودی حکومت پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انڈیا کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد سے ڈھاکہ اور دہلی کے درمیان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے انڈیا کو بار بار شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم مودی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کریں۔ لیکن شيخ حسینہ خود پر لگائے گئے الزامات مسترد کرتی ہیں۔
ساؤتھ ایشیا کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کی بحالی سٹریٹجک پیش رفت ہے۔
معروف لکھاری اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس وقت سٹرٹیجک تعلقات ہیں اور دونوں مل کر انڈیا کے تسلط کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ریے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین فوجی وفود کے تبادلے کے علاوہ حال ہی میں براہ راست تجارت بھی شروع کر دی گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے حالیہ مہینوں میں متعدد بار پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے کثیرالجہتی فورمز پر ملاقات کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات پر بھی انڈیا کی گہری نظر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل حسینہ واجد حکومت کی خاتمے سے بھارت نے ساؤتھ ایشیا میں ایک اہم ترین سٹریٹیجک پارٹنر کھو ڈالا ہے، بھارت کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کا الزام آئی ایس آئی پر بھی عائد کیا جا رہا ہے۔
یاد ریے کہ بنگلہ دیش کے ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد نے جنوری میں پاکستان کا غیر معمولی دورہ کیا اور بااثر آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیشی بحریہ نے فروری میں کراچی کے ساحل پر پاکستان کی طرف سے منعقد کی گئی ملٹی نیشنل بحری مشق میں بھی حصہ لیا۔ یاد رہےکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان طویل اور غیر محفوظ سرحد انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں کے مسلح باغی گروپوں کے لیے بنگلہ دیش سے گزرنے کو نسبتاً آسان بناتی ہے۔ لیکن شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے 2009 میں اقتدار میں آنے کے بعد ان باغی گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا اور ان کے ٹھکانے ختم کر دیے۔ اسی لیے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فوجی تعلقات کی بحالی کو بھارت میں ایک سکیورٹی تھریٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی تعلقات کی بحالی کے علاوہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ بنگلہ دیش جماعت اسلامی جیسی اسلام پسند جماعتوں کے ساتھ بھی تعلقات بحال کر رہی ہے، جنھوں نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران اسلام آباد کی حمایت کی تھی۔
اگرچہ تاریخی طور پر ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات خراب تھے لیکن ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اب دونوں ممالک پہلے اپنی دو طرفہ تجارت بہتر بنانے پر توجہ کر رہے ہیں، جو اس وقت 700 ملیین امریکی ڈالرز سے کم ہے اور یہ زیادہ تر پاکستان کے حق میں ہے۔ انکا کہنا یے کپ پاکستان کی 250 ملین سے زیادہ آبادی بنگلہ دیش کے لیے درمیانی سے طویل مدت کے لیے ایک مستحکم مارکیٹ ہے۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ فی الحال دونوں اطراف سے زیادہ ٹیرف سمیت کئی رکاوٹیں موجود ہیں اور کاروبار اور برآمد کنندگان کو ویزا اور سفری رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم بہتر دو طرفہ سیاسی اور تجارتی تعلقات ان رکاوٹوں کو رفتہ رفتہ کم کر دیں گے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اگلے ماہ اپریل میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ڈھاکہ کے مجوزہ دورے کے دوران بنگلہ دیش اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تجارت بڑھانے پر بات ہو سکتی ہے۔ اس سال کے آخر تک بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے کی توقع ہے اور نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن کچھ بھی ہو، نئی دہلی کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انڈین حکومت شدت سے محسوس کرتی ہے کہ ایک مستحکم اور دوستانہ بنگلہ دیش ان کی شمال مشرقی ریاستوں میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے مابین بہتر ہوتے تعلقات مودی حکومت کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہیں۔
