پنڈی میں انوکھی چوری، سیلاب کی اطلاع دینے والا سسٹم غائب

آپ نے چوری کی بہت سی وارداتوں کے بارے میں سنا ہو گا اور یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں، لیکن آج ہم آپ کو ایک انتہائی انوکھی چوری کی واردات کے بارے میں بتائیں گے جس سے لاکھوں پاکستانی متاثر ہونے جا رہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی مییں چور سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والا سسٹم ہی اٹھا کر لے گئے۔

یہ سسٹم جاپان نے پاکستان کے محکمہ موسمیات کو سنہ 2004 میں تحفے میں دیا تھا اور اسے نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر لگایا گیا تھا۔

راولپنڈی کے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے چوری کا مقدمہ محکمہ موسمیات کے الیکٹریکل انجینیئر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چور تالے توڑ کر قیمتی بیٹریاں، سولر پلیٹس، کاپر کیبلز، بورڈز اور باکس لے اڑے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس جدید سسٹم کی چوری کے بعد خود کار سسٹم سے پانی کی سطح کی معلومات سے متعلق ایک ایس ایم ایس بھی موصول ہوا۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر سید عدنان حیدر نے بتایا کہ تفتیش میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور اس ضمن میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی مدد لی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اہل محلہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے بقول کچھ ایسے افراد کے ملوث ہونے کا بھی احتمال ہے جو نشہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس چوری شدہ سسٹم کی بازیابی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع کباڑ خانوں پر بھی چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس سسٹم کو ریکور نہیں کیا جا سکا۔

عدنان حیدر کے مطابق اس سسٹم کی کل مالیت پانچ لاکھ روپے کے قریب ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ قمر زمان چوہدری کا کہنا ہے کہ لاہور میں نیشنل فلڈ فورکاسٹنگ سسٹم موجود ہے اور یہ سسٹم واپڈا کے علاوہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنے والے اہلکاروں اور محکمہ انہار کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہوتا ہے اور بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی ممکنہ آمد کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نالہ لئی سے جو سسٹم چوری ہوا، وہ بھی نیشنل فلڈ فورکاسٹنگ سسٹم کے ساتھ منسلک تھا جس کی وجہ سے سیلاب کی پیشگی اطلاع مل جاتی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے تو ایسی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کو کیسے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ لوگوں کو سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے بروقت انتظامات کر سکیں تو قمر چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے سسٹم نالہ لئی میں اور مقامات پر بھی لگائے گئے ہیں لیکن وہ شہری حدود سے باہر ہیں۔‘

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی سے اربن فلڈنگ کا پتا دینے والے جاپانی سسٹم کی چوری کے بعد اس برس مون سون میں نالہ لئی میں سیلابی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکے گا۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل صاحبزاد خان بتایا کہ جاپانی سسٹم اربن فلڈنگ سے متعلق درست پتا دے دیتا تھا جسے ’رئیل ٹائم ڈیٹا‘ کہا جاتا ہے مگر اب اس کی جگہ جو نظام اب نصب کیا ہے یہ اندازے کی حد تک معلومات دے سکے گا جسے ’ایسٹیمیٹڈ ڈیٹا‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر جاپان سے یہ ٹیکنالوجی دینے کی درخواست کی ہے تا کہ تمام بڑے شہروں میں بھی اربن فلڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔ صاحبزاد خان کے مطابق اس وقت راولپنڈی پولیس صرف ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے چوری ہونے والے اس نظام کی تلاش کی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چوروں کو پکڑنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ یہ لاکھوں شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں